صانعیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تخلیق کرنے کی صفت، خلاقیت۔ "عقل نے اللہ کو نہیں جانا بلکہ صفت ایجاد و احداث اور صانعیت کو جانا۔"      ( ١٩٦٠ء، تفیسر سورۂ والتین اور والعصر، ١٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم صفت 'صانع' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقہ کیفیت بڑھانے سے 'صانعیت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٨٤ء کو "عشق نامہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تخلیق کرنے کی صفت، خلاقیت۔ "عقل نے اللہ کو نہیں جانا بلکہ صفت ایجاد و احداث اور صانعیت کو جانا۔"      ( ١٩٦٠ء، تفیسر سورۂ والتین اور والعصر، ١٧ )

اصل لفظ: صنع
جنس: مؤنث