صبح

قسم کلام: اسم ظرف زماں

معنی

١ - رات کی تاریکی دور ہونے سے چاشت تک کا وقت، دن کے آغاز کا وقت، سحر، سویرا، تڑکا۔  جن کی آنکھوں کو رُخ صبح کا یارا بھی نہیں اُن کی راتوں میں کوئی شمع منور کر دے      ( ١٩٦٧ء، سرِوادئ سینا، ٨٠ ) ٢ - [ مجازا ]  فجر کی نماز۔ "پنج وقتی کو تو کبھی فرض و واجب کیا، مستحب بھی نہیں سمجھا، صبح اور ظہر اور عشا تو عمر بھی پڑھی ہی نہیں، کیونکہ عین سونے کے وقت تھے۔"      ( ١٨٧٧ء، توبۃ النصوح، ٤٢ ) ٣ - [ تصوف ]  اصطلاح میں طلوع شمس حقیقت کو کہتے ہیں اور ظہور احوال اور اعمال اور اوقاتِ سالک کو بھی اور برزخِ کبریٰ کہتےہیں کہ ایک سمت اوس کے غیب اور دوسری جانب ظہور واحدیت۔ (مصباح التعرف، 158)۔

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مصدر ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥١٨ء کو "لطفی (دکنی ادب کی تاریخ)" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  فجر کی نماز۔ "پنج وقتی کو تو کبھی فرض و واجب کیا، مستحب بھی نہیں سمجھا، صبح اور ظہر اور عشا تو عمر بھی پڑھی ہی نہیں، کیونکہ عین سونے کے وقت تھے۔"      ( ١٨٧٧ء، توبۃ النصوح، ٤٢ )

اصل لفظ: صبح
جنس: مؤنث