صبر

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - کسی صدمے، حادثے یا تکلیف کو خاموشی سے برداشت کر لینا، مصیبت کے وقت شکوہ یا نالہ و فریاد کرنے سے باز رہنا، مصائب یا مشکلات میں ضبط و تحمل سے کام لینا، برداشت تحمل، شکیبائی۔ "اپنے ملازم کے ساتھ صبر کا یہ برتاؤ کرنے والا اللہ کا بندہ مغلیہ سلطنت کا سب سے بڑا شہنشاہ اور رنگ زیب عالمگیر تھا۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٤٣٠ ) ٢ - قرار، چین، سکون، اطمینان۔ "جو تخت و تاج کو چھوڑ کر مکمل قناعت صبر اور یکسوئی کے ساتھ اس کی گھنیری چھاؤں میں آبیٹھے۔"      ( ١٩٨٧ء، سمندر، ٨ ) ٤ - توقف، تامل جلدی کرنے سے گریز۔ "شیر کی بات سن کر خوف کے مارے کسان کے پسینے چھٹ جاتے وہ نہایت ڈری ڈری آواز میں کہتا کچھ روز اور صبر کرلو۔"    ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ٨٧ ) ٥ - نفس کو روکنا۔ "صبر اور بے حمیتی توکل اور کاہلی . باہم اس قدر ملے ہوئے ہیں کہ انسان کی قوت ممیزہ کبھی کبھی دھوکا کھا جاتی ہے۔"    ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٨٨:٣ ) ٦ - قناعت، اکتفا۔  غم فرقت میں غم کھا کر ہی اپنا پیٹ بھرتے ہیں جو کچھ ملتا ہے ہم کو ہم اسی پہ صبر کرتے ہیں    ( ١٩٣٦ء، شعاع مہر، نارائن پرشاد ورما، ٢١٧ ) ٨ - قدیم عرب میں سزا کا ایک طریقہ جس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ آدمی کو کسی کوٹھڑی میں قید کرکے اس کا کھانا پانی بند کر دیتے تھے یہاں تک کہ وہ تڑپ تڑپ کر مر جاتا تھا۔ (سیرۃ النبیۖ، 192:4) ٩ - [ تصوف ]  طلب اور محبت معشوق، حقیقی میں ثابت قدم رہنا اور اس کی یافت اور محنت اٹھانا اور نالاں نہ ہونا۔ (مصباح التعرف، 158) ١٠ - وبال، آفت، عذاب (جو کسی ظلم وغیرہ کی پاداش میں خدا کی طرف سے نازل ہو)۔  غضب رحمت سے دل توڑا ہے واعظ مہگساروں کا ستمگر صبر تیری جان پر امیداوروں کا      ( ١٨٩٩ء، دیوان ظہیر، ١١:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٤٢١ء کو "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی صدمے، حادثے یا تکلیف کو خاموشی سے برداشت کر لینا، مصیبت کے وقت شکوہ یا نالہ و فریاد کرنے سے باز رہنا، مصائب یا مشکلات میں ضبط و تحمل سے کام لینا، برداشت تحمل، شکیبائی۔ "اپنے ملازم کے ساتھ صبر کا یہ برتاؤ کرنے والا اللہ کا بندہ مغلیہ سلطنت کا سب سے بڑا شہنشاہ اور رنگ زیب عالمگیر تھا۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٤٣٠ ) ٢ - قرار، چین، سکون، اطمینان۔ "جو تخت و تاج کو چھوڑ کر مکمل قناعت صبر اور یکسوئی کے ساتھ اس کی گھنیری چھاؤں میں آبیٹھے۔"      ( ١٩٨٧ء، سمندر، ٨ ) ٤ - توقف، تامل جلدی کرنے سے گریز۔ "شیر کی بات سن کر خوف کے مارے کسان کے پسینے چھٹ جاتے وہ نہایت ڈری ڈری آواز میں کہتا کچھ روز اور صبر کرلو۔"    ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ٨٧ ) ٥ - نفس کو روکنا۔ "صبر اور بے حمیتی توکل اور کاہلی . باہم اس قدر ملے ہوئے ہیں کہ انسان کی قوت ممیزہ کبھی کبھی دھوکا کھا جاتی ہے۔"    ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٨٨:٣ )

اصل لفظ: صبر
جنس: مذکر