صبور
معنی
١ - بہت صبر کرنے والا، جس کو صبر کی عادت ہو، صابر۔ کل صبح صحن باغ میں ایک شاعر صبور کہتا تھا یوں کہ سینۂ طلمت ہے گنجِ نور ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٥٩ ) ٢ - اللہ تعالٰی کا ایک صفاتی نام۔ توں بدیع و نافع و باقی و ودود و ضار و نور ذوالجلال و الکرام و مالک الملک و صبور ( ١٩٨٤ء، الحمد، ٨٥ ) ١ - [ قدیم ] صبر، برداشت، تحمل۔ توں بولیا تھا مج کوں کہ جھگڑے کے ٹھور علی کو ترے ہاتھ دیونگا صبور ( ١٦٤٩ء، خاور نامہ، ٢٧٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مشتق ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت نیز شاذ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔