صبوری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - صبر، شکیب، کام میں جلدی نہ کرنا۔  اے دردِ صبوری اے غمِ مہجوری مجھ کو تو نہیں تابِ جوابِ نالہ      ( ١٩٧٦ء، حمطایا، ٦٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق 'صبور' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت ملنے سے 'صبوری' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: صبر
جنس: مؤنث