صد

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - ایک سو۔  ہوا رتبہ میں افزوں قافِ قلت کافِ کثرت سے معما پاگئی چشمِ تامّل صاد سے صد کا      ( ١٨٥٧ء، کلیاتِ محسن، ٥٧ ) ٢ - بیسیوں، سیکڑوں، زیادہ (تعداد کے لیے مستعمل)۔  دو بھواں تیغ جنوبی سے دراز ہوتے صد محمود وو مکھ دیکھ ایاز    ( ١٧١٣ء، فائز دہلوی، دیوان، ٢٠٤ ) ٣ - بہت، نہایت۔  تکلیف نہ کراہ مجھے جنبش لب کی میں صد سخن آغشتہ بہ خون زیرِ زباں ہوں    ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٢٢٦ )

اشتقاق

فارسی سے مِن و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔