صدا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - آواز، بازگشت؛ گونج۔  اپنی اپنی سوچ کے خود ساختہ گنبد میں ہم اپنی صداؤں کے سوا کچھ بھی نہ تھے    ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٩١ ) ٢ - آواز۔  مقتل کی طرح سو گئی کیا گھر کی فضا بھی آتی نہیں اب دل کے دھڑکنے کی صدا بھی    ( ١٩٦٨ء، دریا آخر دریا ہے، ٩٣ ) ٣ - پکار، ندا۔ "کیا آپ کی صدا پر لبیک کہنے کا یہ نتیجہ ہے۔"    ( ١٩٤٧ء، اک محشرِ خیال، ٢٩ ) ٤ - وہ کلمات جو فقیر بھیک مانگنے کے لیے مُنہ سے نکالتا ہے، فقیر کے مانگنے کی آواز۔  سرراہ بیٹھے ہیں اور یہ صدا ہے کہ اللہ والی ہے بے دست و پا کا      ( ١٩٢٨ء، آخری شمع (حضور)، ٧١ ) ٥ - [ تصوف ]  وہ صوتِ حق جو قلب پر وارد ہوتی ہے۔ (ماخوذ: مصباح التعرف، 159)۔

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم مصدر ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیاتِ قلی قطب شاہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - پکار، ندا۔ "کیا آپ کی صدا پر لبیک کہنے کا یہ نتیجہ ہے۔"    ( ١٩٤٧ء، اک محشرِ خیال، ٢٩ )

اصل لفظ: صدء
جنس: مؤنث