صداقت

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - سچائی؛ راست بازی؛ خلوص۔ "شروع ہی سے خلوص و صداقت کا گہوارہ ہوں۔"    ( ١٩٤٩ء، اک محشرِ خیال، ٨٧ ) ٢ - حق ہونا، صادق ہونا۔ "اُس نے کہا، آپ کی صداقت کی شہادت کون دیتا ہے، آپۖ نے فرمایا سامنے کا یہ درخت۔"    ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١١٠:٣ ) ٣ - تصدیق  خود بھی حسن اور ان کی حدیثیں بھی سب حسن خود نام کررہا ہے صداقت حدیث کی    ( ١٨٩٥ء، دیوانِ راسخ دہلوی، ٣٠٨ ) ٤ - گواہی، صداقت، ثبوت۔ "صداقت اُن کی یہ دی کہ ان کے گھوڑوں کے سموں پر انگریزی نمبر پڑے ہوئے ہیں۔"    ( ١٩١١ء، ظہیر دہلوی، داستانِ غدر، ١٢٩ ) ٥ - حقیقت، سچ۔ "سب سے بڑی صداقت یا حقیقیت انسان کی ذات ہے۔"      ( ١٩٥٨ء، ادب کلچر اور مسائل، ٤٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو "دیوانِ قائم" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سچائی؛ راست بازی؛ خلوص۔ "شروع ہی سے خلوص و صداقت کا گہوارہ ہوں۔"    ( ١٩٤٩ء، اک محشرِ خیال، ٨٧ ) ٢ - حق ہونا، صادق ہونا۔ "اُس نے کہا، آپ کی صداقت کی شہادت کون دیتا ہے، آپۖ نے فرمایا سامنے کا یہ درخت۔"    ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١١٠:٣ ) ٤ - گواہی، صداقت، ثبوت۔ "صداقت اُن کی یہ دی کہ ان کے گھوڑوں کے سموں پر انگریزی نمبر پڑے ہوئے ہیں۔"    ( ١٩١١ء، ظہیر دہلوی، داستانِ غدر، ١٢٩ ) ٥ - حقیقت، سچ۔ "سب سے بڑی صداقت یا حقیقیت انسان کی ذات ہے۔"      ( ١٩٥٨ء، ادب کلچر اور مسائل، ٤٦ )

اصل لفظ: صدق
جنس: مؤنث