صدق
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - سچائی، راستی، سچ، کذب کا تقیض۔ راز مجہ عشق کا چھپتا سا نظر آتا نہیں ہے مجھے صدق کہ آخر کوں پکارا ہو گا ( ١٧٣٩ء، کلیاتِ سراج، ١٩١ ) ٢ - [ تصوف ] سچا اور پاک باطن ہونا، ظاہراً اور باطناً۔ (مصباح التصرف، 159)۔
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر ہے۔ عربی سے بعینہ اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٤٢١ء کو "معراج العاشقین" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: صدق
جنس: مذکر