صراحت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تصریح، وضاحت، تشریح، آشکارا ہونا۔ "خاکے نقشے ضروری صراحتوں کے ساتھ عرب پہنچے۔"      ( ١٩٨٦ء، ہند سے اور ان کی تاریخ، ١٢ ) ٢ - بیان، اظہار۔ "ہم نے حسبِ صراحت بالانشان زد کیا ہے۔"      ( ١٩٣٧ء، علم ہندسہ نظریٰ، ٢٤٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٢ء کو "تحفۃ الاحباب (قلمی نسخہ)" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تصریح، وضاحت، تشریح، آشکارا ہونا۔ "خاکے نقشے ضروری صراحتوں کے ساتھ عرب پہنچے۔"      ( ١٩٨٦ء، ہند سے اور ان کی تاریخ، ١٢ ) ٢ - بیان، اظہار۔ "ہم نے حسبِ صراحت بالانشان زد کیا ہے۔"      ( ١٩٣٧ء، علم ہندسہ نظریٰ، ٢٤٥ )

اصل لفظ: صرح
جنس: مؤنث