صرافہ
معنی
١ - صراف کا پیشہ یا کام، صرافی (فرہنگِ آصفیہ)۔ ٢ - صرافوں کا بازار، وہ جگہ جہاں سونے چاندی اور زیورات کا کاروبار ہوتا ہے۔ "ایک طرف صرافہ، دوسری طرف بزازہ۔" ( ١٨٨٢ء، طلسم ہو شربا، ٦٢:١ ) ٣ - لین دین کی کوٹھی، بنک۔ "ایک جانب صرافہ، روپے پیسوں کا ڈھیڑ۔" ( ١٨٩٦ء، لعل نامہ، ٣٠٤ ) ٤ - سامانِ فروخت کے ذخیرے کی منڈی۔ "ایک پنی اور بڑھادی گئی تاکہ کوئلے کے صرافے کی تعمیر ہو سکے۔" ( ١٩٣٧ء، اصول و طریق محصول، ١٩٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٢ء کو "طلسم ہوشربا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - صرافوں کا بازار، وہ جگہ جہاں سونے چاندی اور زیورات کا کاروبار ہوتا ہے۔ "ایک طرف صرافہ، دوسری طرف بزازہ۔" ( ١٨٨٢ء، طلسم ہو شربا، ٦٢:١ ) ٣ - لین دین کی کوٹھی، بنک۔ "ایک جانب صرافہ، روپے پیسوں کا ڈھیڑ۔" ( ١٨٩٦ء، لعل نامہ، ٣٠٤ ) ٤ - سامانِ فروخت کے ذخیرے کی منڈی۔ "ایک پنی اور بڑھادی گئی تاکہ کوئلے کے صرافے کی تعمیر ہو سکے۔" ( ١٩٣٧ء، اصول و طریق محصول، ١٩٤ )