صرصر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تیز ہوا، آندھی، جھکڑ، طوفانی ہوا۔ "صرصر اور صبا ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ٣٧ ) ٢ - [ مجازا ]  تباہی و بربادی، نیستی، موت۔  زندہ ہوں شکستِ پارسائی کے لیے صرصر ہوں چراغِ خودنمائی کے لیے      ( ١٩٦٨ء، غزال و غزل، ٤٠٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم کیفیت ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تیز ہوا، آندھی، جھکڑ، طوفانی ہوا۔ "صرصر اور صبا ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ٣٧ )

جنس: مؤنث