صعوبت

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - مصیبت، دشواری، تکلیف، دقت، آفت۔ "ایک نظریاتی مملکت کی بنیاد، سخت محنت و مشقت، تخلیقی قوت، صعوبت اور صبر و تحمل کی متقاضی ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصدومسائل پاکستان، ٢٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٤٦ء کو "سرور سلطانی میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مصیبت، دشواری، تکلیف، دقت، آفت۔ "ایک نظریاتی مملکت کی بنیاد، سخت محنت و مشقت، تخلیقی قوت، صعوبت اور صبر و تحمل کی متقاضی ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصدومسائل پاکستان، ٢٣ )

اصل لفظ: صعب
جنس: مؤنث