صف
معنی
١ - قطار، پرا، لائن۔ "ہر ایک صفت کے درختوں کے تاج ایک ہی سطح پر . پھیلے ہوئے (ہیں)۔ ( ١٩٠٤ء، تربیتِ جنگلات، ٩٤ ) ٢ - نمازیوں کی قطار جس میں سب برابر اور ایک خط پر ہوں۔ ابھی وقت ہے کہ ایک صف میں کھڑے ہو کے آو تو بخشش کا سامان کرلیں ( ١٩٦٢ء، ہفت کشور، ٣٣٤ ) ٣ - فرش، بوریا، لمبی چٹائی (جس پر دائیں بائیں برابر برابر متعدد اشخاص بیٹھ سکیں)۔ "تنکوں کی بنی ہوئی ٹوپیاں . وہ ایک ایک کر کے مسجد میں بچھی ہوئی صفوں پر رکھنے لگا۔" ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٨٥ ) ٥ - [ مجازا ] گروہ، جماعت، حلقہ۔ "بہت سے ایسے تھے جو اپنی صف میں کمزور ہونے کی وجہ سے باہر کے اساتذہ سے سبق کا اعادہ کرتے تھے۔" ( ١٩١٤ء، مقالاتِ شبلی، ١٣٠:٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قطار، پرا، لائن۔ "ہر ایک صفت کے درختوں کے تاج ایک ہی سطح پر . پھیلے ہوئے (ہیں)۔ ( ١٩٠٤ء، تربیتِ جنگلات، ٩٤ ) ٣ - فرش، بوریا، لمبی چٹائی (جس پر دائیں بائیں برابر برابر متعدد اشخاص بیٹھ سکیں)۔ "تنکوں کی بنی ہوئی ٹوپیاں . وہ ایک ایک کر کے مسجد میں بچھی ہوئی صفوں پر رکھنے لگا۔" ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٨٥ ) ٥ - [ مجازا ] گروہ، جماعت، حلقہ۔ "بہت سے ایسے تھے جو اپنی صف میں کمزور ہونے کی وجہ سے باہر کے اساتذہ سے سبق کا اعادہ کرتے تھے۔" ( ١٩١٤ء، مقالاتِ شبلی، ١٣٠:٨ )