صفرا
معنی
١ - زرد؛ چار خلطوں میں ایک خلط کا نام جس کا رنگ زدر ہے، پت، زرد مادہ، بادی کا پانی۔ راہ طلب کٹنے لگی بے خطر غلبۂ صفرا تھا نہ دورانِ سر ( ١٩٤٤ء، کلیاتِ حسرت موہانی، ٣٠٤ ) ٢ - ایک قسم کا پودا جس کے پتے خس کے مشابہ ہوتے ہیں۔ "صفرا؛ صفات و شناخت ابوالعباس کہتا ہے کہ ایک روئیدگی ہے جو ریت کی زمین میں اگتی ہے۔" ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٨٩:٥ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم خاص استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - ایک قسم کا پودا جس کے پتے خس کے مشابہ ہوتے ہیں۔ "صفرا؛ صفات و شناخت ابوالعباس کہتا ہے کہ ایک روئیدگی ہے جو ریت کی زمین میں اگتی ہے۔" ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٨٩:٥ )