صفیر
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - دلکش آواز؛ (خصوصاً) پرندوں کی آواز؛ سیٹی کی آواز۔ جادوئے شب کو جگاتی ہے صدائے قلقل عمرِ رفتہ کو بلاتی ہے صفیرِ صلصل ( ١٩٦٢ء، برگِ خزاں، ٢٠٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: صفر
جنس: مؤنث