صلاحیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - (کسی شے یا شخص کے) درست ہونے کی صورتحال، درستی، بہتری، اصلاح، نیکی، پارسائی، خوبی۔ "اس پر بھی انہوں نے صلاحیت اختیار نہ کی تو لڑیں گے۔"      ( ١٩٢٥ء، ابوالحسنین، ٢٠ ) ٢ - لیاقت، اہلیت، قابلیت۔ "مجھ میں سوچنے سمجھنے کی کوئی صلاحیت نہ تھی۔"      ( ١٩٨٦ء، قطب نما، ٣٠ ) ٣ - ملائمت، نرمی، آہستگی، دھیرج۔ "اس کا جوش و خروش دھیما ہو کر رفتار میں صلاحیت و آہستگی پیدا ہو جاتی ہے۔"      ( دخترِ فرعون (ترجمہ)، ٢١:١ ) ٤ - حادثات اور مسافروں کی آمدو رفت وغیرہ کا وہ روزنامچہ جسے پولیس تھانے میں مرتب کرتی ہے، روز مرہ کا احوال تھانہ دار حاکم کو لکھ کر بھیجتا ہے، روزنامچہ۔ "مطلع ہونا آمدو رفت مسافرین اور مترد دین از روئے بہی صلاحیت۔"      ( ١٨٤٩ء، دستور العمل انگریزی (ترجمہ)، ٩٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٥٤ء کو "ریاضِ غوثیہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (کسی شے یا شخص کے) درست ہونے کی صورتحال، درستی، بہتری، اصلاح، نیکی، پارسائی، خوبی۔ "اس پر بھی انہوں نے صلاحیت اختیار نہ کی تو لڑیں گے۔"      ( ١٩٢٥ء، ابوالحسنین، ٢٠ ) ٢ - لیاقت، اہلیت، قابلیت۔ "مجھ میں سوچنے سمجھنے کی کوئی صلاحیت نہ تھی۔"      ( ١٩٨٦ء، قطب نما، ٣٠ ) ٣ - ملائمت، نرمی، آہستگی، دھیرج۔ "اس کا جوش و خروش دھیما ہو کر رفتار میں صلاحیت و آہستگی پیدا ہو جاتی ہے۔"      ( دخترِ فرعون (ترجمہ)، ٢١:١ ) ٤ - حادثات اور مسافروں کی آمدو رفت وغیرہ کا وہ روزنامچہ جسے پولیس تھانے میں مرتب کرتی ہے، روز مرہ کا احوال تھانہ دار حاکم کو لکھ کر بھیجتا ہے، روزنامچہ۔ "مطلع ہونا آمدو رفت مسافرین اور مترد دین از روئے بہی صلاحیت۔"      ( ١٨٤٩ء، دستور العمل انگریزی (ترجمہ)، ٩٩ )

اصل لفظ: صلح
جنس: مؤنث