صلب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سخت، ٹھوس، مستحکم، مضبوط۔ "میں نے ایک بیمار کو دیکھا اس کی نبض صلب اور بطی تھی۔"      ( ١٩٦٩ء، جنگ کراچی، ١٩ دسمبر، ٦ ) ١ - ریڑھ کی ہڈی، پشت کے مہرے۔ "دونوں کے جسم میں صُلب یعنی ریڑھ کی ہڈی موجود ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، عالمِ حیوانی، ١ ) ٢ - [ مجازا ]  نطفہ، نسل نیز حسب شرف آبائی۔ "پشتہ یعنی تلوار کا پچھلا حصہ لیکن پشت بمعنی صلب یعنی نطفہ اور ذات کا اشارہ موجود ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، اثبات و نفی، ٧٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم نیز بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سخت، ٹھوس، مستحکم، مضبوط۔ "میں نے ایک بیمار کو دیکھا اس کی نبض صلب اور بطی تھی۔"      ( ١٩٦٩ء، جنگ کراچی، ١٩ دسمبر، ٦ ) ١ - ریڑھ کی ہڈی، پشت کے مہرے۔ "دونوں کے جسم میں صُلب یعنی ریڑھ کی ہڈی موجود ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، عالمِ حیوانی، ١ ) ٢ - [ مجازا ]  نطفہ، نسل نیز حسب شرف آبائی۔ "پشتہ یعنی تلوار کا پچھلا حصہ لیکن پشت بمعنی صلب یعنی نطفہ اور ذات کا اشارہ موجود ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، اثبات و نفی، ٧٩ )

اصل لفظ: صلب