صلح
معنی
١ - میل ملاپ، مصاحلت، آتشی، سمجھوتا، جنگ کی ضد۔ "اپنے آپ سے یا دنیا سے مکمل صلح نہیں ہو سکتی۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٧٧ ) ٢ - امن و امان۔ (مہذاب اللغات) ٤ - کبوتر بازوں کا باہمی عہد جس کے سبب ایک دوسرے کے کبوتر کو بغیر معاوضہ لیے واپس کر دیتا ہے۔ صید ہی میں نہ فقط ذبح کا کچھ قصد رہا صلح بھی ٹھیری تو پھڑ کا ہی کے چھوڑا ہم کو ( ١٨٥٤ء، ذوق، دیوان، ١٥٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر ہے۔ عربی سے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - میل ملاپ، مصاحلت، آتشی، سمجھوتا، جنگ کی ضد۔ "اپنے آپ سے یا دنیا سے مکمل صلح نہیں ہو سکتی۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٧٧ )