صلوۃ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نماز (مسلمانوں کی) "ایک دوسری روایت میں صیام رمضان اور صلٰوۃ کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، ٣٧٥:٣ ) ٢ - خدا کی رحمت، درود و سلام (عموماً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر)۔

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نماز (مسلمانوں کی) "ایک دوسری روایت میں صیام رمضان اور صلٰوۃ کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، ٣٧٥:٣ )

اصل لفظ: صل
جنس: مؤنث