صمیم

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خالص، بے لوث، سچا۔  قوم میں ہو اتفاق اور ہو پہلا سا جوش ہمت ادھر ہو بلند عزم اُدھر ہو صمیم      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ٥٢ ) ٢ - بہرا  اُس گُل کا وصف چشم سُناتا میں کیا امیر نرگس کا پھول باغ میں گوشِ صمیم تھا      ( ١٨٧٢ء، مرآۃ الغیب، ٩٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٢ء کو "دیوانِ محب دہلوی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: صمم