صناع

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بڑا صنعت گر، عظیم صانع، بہت بڑا کاریگر، نہایت ہنر مند، ماہرِ فن۔ "وہ ایسے صناع ہیں جن کی خوبی آسانی سے نظر نہیں آتی۔"      ( ١٩٨٥ء، اسلوبیاتِ میر، ٨٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم مبالغہ ہے۔ عربی سے بعینہ اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٠٥ء کو "آرائش محفل" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بڑا صنعت گر، عظیم صانع، بہت بڑا کاریگر، نہایت ہنر مند، ماہرِ فن۔ "وہ ایسے صناع ہیں جن کی خوبی آسانی سے نظر نہیں آتی۔"      ( ١٩٨٥ء، اسلوبیاتِ میر، ٨٦ )

اصل لفظ: صنع