صنم

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بُت، مورتی۔  ہوا و ہوس کے بت پُج رہے ہیں حرم میں خدا کی قسم پُج رہے ہیں      ( ١٩٨٧ء، ضمیریات، ٢٢ ) ٢ - [ مجازا ]  حسین، محبوب (مرد عورت دونوں کے لیے مستعمل)۔ "بخشی غلام محمد کے ساتھ ان کے صنم . بھی ایسے ڈوبے کہ نابود ہو کر رہ گئے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٧٥٢ ) ٣ - [ موسیقی ]  ایک راگ جو کلیان اور ایک فارسی راگ سے مرتب ہے۔ "بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پانچ گوشے یعنی موافق، صنم، آوان، فرغنہ بھی امیر ہی کی ایجاد ہیں۔"      ( ١٩٦٠ء، حیاتِ امیر خسرو، ١٧٥ ) ٤ - [ تصوف ]  صنم حقیقت روحی اور تجلیات صفاتی کو کہتے ہیں جو سالک کے دل میں متجلی ہوتی ہیں۔ (مصباح التعرف، 160)۔

اشتقاق

عربی زبان سے اسم جامد ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیاتِ ولی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  حسین، محبوب (مرد عورت دونوں کے لیے مستعمل)۔ "بخشی غلام محمد کے ساتھ ان کے صنم . بھی ایسے ڈوبے کہ نابود ہو کر رہ گئے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٧٥٢ ) ٣ - [ موسیقی ]  ایک راگ جو کلیان اور ایک فارسی راگ سے مرتب ہے۔ "بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پانچ گوشے یعنی موافق، صنم، آوان، فرغنہ بھی امیر ہی کی ایجاد ہیں۔"      ( ١٩٦٠ء، حیاتِ امیر خسرو، ١٧٥ )

جنس: مذکر