صنوبر
معنی
١ - چیڑ کی قسم کا ایک درخت جس میں چلغوزے لگتے ہیں اور نہایت سیدھا ہوتا ہے۔ "اس کے بڑے گھر کے در سرو کے اور کڑیاں صنوبر کی تھیں۔" ( ١٩٨٧ء، آخری آدمی، ١٧ ) ٢ - ایک قسم کا سرو جو مخروطی ہوتا ہے اور جس سے معشوق کے قد کو تشبیہ دیتے ہیں۔ قامت کو تیرے سرو و صنوبر نہیں کہا جیسا بھی تو تھا اس سے تو بڑھ کر نہیں کہا ( ١٩٧٨ء، جاناں جاناں، ١٦٩ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم جامد ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیاتِ ولی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چیڑ کی قسم کا ایک درخت جس میں چلغوزے لگتے ہیں اور نہایت سیدھا ہوتا ہے۔ "اس کے بڑے گھر کے در سرو کے اور کڑیاں صنوبر کی تھیں۔" ( ١٩٨٧ء، آخری آدمی، ١٧ )