صواب

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - درست، راست، صحیح، خط کا نقیض۔ "اسی طریق کو وہ پسندیدہ اور صواب جانتا تھا۔"      ( ١٩٨٧ء، سید سلیمان ندوی، ٦٠ ) ٢ - خوبی، درستی، راستی، اچھائی۔ "قوافی کے عیب و صواب کو پرکھنے کے لیے ایک مستقل اور جداگانہ علم وجود میں آگیا ہے جسے علمِ قافیہ کہتے ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٢٥ ) ٣ - نیکی، سچائی، عذاب کا نقیض، ثواب۔ "وہ شخص جس کا ارادہ صواب کا ہو لیکن بلا ارادہ خطا ہو جائے۔"      ( ١٩٨٧ء، اردو، اکتوبر، ١٢١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - درست، راست، صحیح، خط کا نقیض۔ "اسی طریق کو وہ پسندیدہ اور صواب جانتا تھا۔"      ( ١٩٨٧ء، سید سلیمان ندوی، ٦٠ ) ٢ - خوبی، درستی، راستی، اچھائی۔ "قوافی کے عیب و صواب کو پرکھنے کے لیے ایک مستقل اور جداگانہ علم وجود میں آگیا ہے جسے علمِ قافیہ کہتے ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٢٥ ) ٣ - نیکی، سچائی، عذاب کا نقیض، ثواب۔ "وہ شخص جس کا ارادہ صواب کا ہو لیکن بلا ارادہ خطا ہو جائے۔"      ( ١٩٨٧ء، اردو، اکتوبر، ١٢١ )

اصل لفظ: صاب
جنس: مذکر