صولت
معنی
١ - رعب، ہیبت، دبدبہ۔ "بتدریج اسلامی نظام . پوری طاقت اور صولت کے ساتھ ابھرے گا۔" ( ١٩٨٧ء، جنگ، کراچی، ٥ نومبر، vii ) ٢ - سطوت، غلبہ، حملہ۔ "تیزی اور صولت ہر ایک کی آپس میں مل کے ٹوٹتی ہے۔" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٢٩١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم کیفیت ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے اردو میں سب سے پہلے ١٧٨٠ء کو "کلیاتِ سودا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - رعب، ہیبت، دبدبہ۔ "بتدریج اسلامی نظام . پوری طاقت اور صولت کے ساتھ ابھرے گا۔" ( ١٩٨٧ء، جنگ، کراچی، ٥ نومبر، vii ) ٢ - سطوت، غلبہ، حملہ۔ "تیزی اور صولت ہر ایک کی آپس میں مل کے ٹوٹتی ہے۔" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٢٩١ )