صیاد

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - شکار کرنے والا، شکاری؛ چڑی مار۔  برق منڈ لا رہی تھی اے صیاد کچھ بتا حال آشیانے کا      ( ١٩٨٣ء، حصارِ انا، ١٥٤ ) ٢ - [ موسیقی ]  ایک راگنی کا نام جو راگ بوسلیک سے اختراع کی گئی ہے۔ "بوسلیک . دوسرا شعبہ اُس کا صیاد ہے اُس کے پانچ نغمہ ہیں۔"      ( ١٨٤٥ء، مطلع العلوم (ترجمہ)، ٣٤٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ موسیقی ]  ایک راگنی کا نام جو راگ بوسلیک سے اختراع کی گئی ہے۔ "بوسلیک . دوسرا شعبہ اُس کا صیاد ہے اُس کے پانچ نغمہ ہیں۔"      ( ١٨٤٥ء، مطلع العلوم (ترجمہ)، ٣٤٤ )

اصل لفظ: صید
جنس: مذکر