ضابطہ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - قاعدہ، اصول، دستور، آئین، دستورالعمل۔ "یہ عام سے خاص تک کسی ضابطے کے تحت ہو۔"    ( ١٩٧٠ء، نظام کتب خانہ، ٢٩٦ ) ٢ - کلیہ، فارمولا۔ "کسی ضابطہ کے استعمال سے محض تقریبی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔"    ( ١٩٤٤ء، مٹی کا کام (ترجمہ)، ١٣ ) ٣ - قانون، جیسے: ضابطۂ دیوانی، ضابطۂ فوجداری، ضابطہ مال وغیرہ، قانون کی شق (دفعہ)۔ "ضابطہ فوجداری ہاتھ میں لیے وہ ہر ملزم کے متعلق حکم مناسب لگا دیتا تھا۔"      ( ١٩٠٧ء، مخزن، اگست، ٣٤ ) ٤ - پولیس۔ "پہلے مجکو بتاؤ کہ ضابطہ سے کیا کہو گے?"      ( ١٩١٢ء، روزنامچۂ سیاحت، ١٢٨:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت 'ضابط' کے ساتھ 'ہ' لاحقۂ تانیث لگانے سے 'ضابطہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٤٦ء کو "قصہ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قاعدہ، اصول، دستور، آئین، دستورالعمل۔ "یہ عام سے خاص تک کسی ضابطے کے تحت ہو۔"    ( ١٩٧٠ء، نظام کتب خانہ، ٢٩٦ ) ٢ - کلیہ، فارمولا۔ "کسی ضابطہ کے استعمال سے محض تقریبی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔"    ( ١٩٤٤ء، مٹی کا کام (ترجمہ)، ١٣ ) ٣ - قانون، جیسے: ضابطۂ دیوانی، ضابطۂ فوجداری، ضابطہ مال وغیرہ، قانون کی شق (دفعہ)۔ "ضابطہ فوجداری ہاتھ میں لیے وہ ہر ملزم کے متعلق حکم مناسب لگا دیتا تھا۔"      ( ١٩٠٧ء، مخزن، اگست، ٣٤ ) ٤ - پولیس۔ "پہلے مجکو بتاؤ کہ ضابطہ سے کیا کہو گے?"      ( ١٩١٢ء، روزنامچۂ سیاحت، ١٢٨:١ )

اصل لفظ: ضبط
جنس: مذکر