ضامن

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ پچر جو مضبوطی کے لیے حقے کی دونوں طرف کی نَے کی درمیان باندھ دیتے ہیں نیز وہ پچر جو ڈھیلی چیز کو ہلنے جلنے سے روکنے کے یے ٹھوکی یا لگائی جائے۔ "وہ چھوٹا سا پرزہ جو نَے اور نال کے درمیان پل کا کام دیتا ہے ضامن کہلاتا ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، دوسرا کنارا، ٣٢ ) ٢ - وہ کاغذ، کپڑا یا اور کوئی چیز جو ایک تہہ کو دوسری تہہ کے زد سے بچانے کے لیے رکھا جائے۔ "پھل کی ہر تہہ کے ساتھ کوئی نرم ضامن ضرور لگا دیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، شفتالو، ١٠٢ ) ٣ - وہ ترشی جس کے ذریعے دودھ جماتے ہیں، مایۂ شیر۔ "اس دودھ کو جمانے کے لیے گا ہے اس میں پنیر مایہ (ضامن) شریک کر دیتے ہیں۔"    ( ١٩٣٦ء، شرحِ اسباب (ترجمہ)، ٢٩٦:٢ ) ٤ - وہ چیز جو خمیر اٹھانے کے لیے استعمال کی جائے۔ "اگر پرانا استعمال شدہ بھوسی کا پانی کچھ شریک کر دیا جائے تو وہ ضامن کا کام دے گا جس کی وجہ سے خمیر بہت جلد جلد اٹھ جائے گا۔"    ( ١٩٤٠ء، معدنی دباغت، ١٢٩ ) ٥ - یرغمال "دھمکی دی کہ ہم ملکہ زینت محل کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ بطور ضامن کے رکھیں گے۔"      ( ١٩٢٠ء، رہنمائے قلعہ دہلی، ٦٨ ) ٦ - [ باغبانی ]  بے پھول درخت کے ڈالے کا کلاّ جس میں سے پھل نکلتا ہے، جیسے انجیر اور گولر کا تھن کہ اگر اس کو توڑ دیا جائے تو پھر اس جگہ پھل نہ نکلے۔ (اصطلاحات پیشہ وراں؛ 135:6) ٧ - [ کنگھی سازی ]  کنگھی کے دانتوں کی لمبان کے برابر بین کی باڑ پر دونوں طرف لگی ہوئی چوبی پٹیاں جو آری کی کاٹ کو دانتوں کی حد سے آگے نہیں بڑھنے دیتی اور بطور روک کام دیتی ہیں، کتھّی۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 91:4) ٨ - [ کھٹ بنا ]  پلنگ کی پٹی اور سیروے کے جوڑ پر جس کے درمیان پایا ہوتا ہے۔ جڑائی کو گنیا میں (زاویۂ قائمہ میں) رکھنے کے لیے جڑی ہوئی لکڑی یا لوہے کی بنی ہوئی آڑ، تان چُگا۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 183:1) ٩ - [ بھنڈے برداری ]  نیچے کی سانسنی کے بیچ کا جوڑ جس کی وجہ سے نَے حسب خواہش ہر طرف موڑی جاسکتی ہے۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 101:7) ١٠ - وہ چیز جو دوسری چیز کو اڑنے سے روکے جیسے کافور میں مرچِ سیاہ۔ (ماخوذ: جامع اللغات) ١ - (کسی قول یا فعل کے پورا ہونے کی) ضانت دینے والا شخص؛ (کسی بات کا) ذمہ دار، کفیل۔  قائم ہوں جس خیال پہ ضامن ہوں جس کا میں جتنی بھی کوئی چاہے ضمانت وہ دوں گا میں      ( ١٩٨٤ء، قہر عشق، ٢٠٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت اور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ پچر جو مضبوطی کے لیے حقے کی دونوں طرف کی نَے کی درمیان باندھ دیتے ہیں نیز وہ پچر جو ڈھیلی چیز کو ہلنے جلنے سے روکنے کے یے ٹھوکی یا لگائی جائے۔ "وہ چھوٹا سا پرزہ جو نَے اور نال کے درمیان پل کا کام دیتا ہے ضامن کہلاتا ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، دوسرا کنارا، ٣٢ ) ٢ - وہ کاغذ، کپڑا یا اور کوئی چیز جو ایک تہہ کو دوسری تہہ کے زد سے بچانے کے لیے رکھا جائے۔ "پھل کی ہر تہہ کے ساتھ کوئی نرم ضامن ضرور لگا دیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، شفتالو، ١٠٢ ) ٣ - وہ ترشی جس کے ذریعے دودھ جماتے ہیں، مایۂ شیر۔ "اس دودھ کو جمانے کے لیے گا ہے اس میں پنیر مایہ (ضامن) شریک کر دیتے ہیں۔"    ( ١٩٣٦ء، شرحِ اسباب (ترجمہ)، ٢٩٦:٢ ) ٤ - وہ چیز جو خمیر اٹھانے کے لیے استعمال کی جائے۔ "اگر پرانا استعمال شدہ بھوسی کا پانی کچھ شریک کر دیا جائے تو وہ ضامن کا کام دے گا جس کی وجہ سے خمیر بہت جلد جلد اٹھ جائے گا۔"    ( ١٩٤٠ء، معدنی دباغت، ١٢٩ ) ٥ - یرغمال "دھمکی دی کہ ہم ملکہ زینت محل کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ بطور ضامن کے رکھیں گے۔"      ( ١٩٢٠ء، رہنمائے قلعہ دہلی، ٦٨ )

اصل لفظ: ضمن
جنس: مذکر