ضخیم
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - بڑے حجم والا، بڑی جسامت والا، موٹا، دبیز۔ "سوال یہ ہے کہ میر کے ضخیم دیوان میں آپ تلاش کیا کرتے ہیں۔" ( ١٩٨٢ء، نیم رُخ، ٦٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں بھی بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٥٦ء کو "فوائدالصبیان" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بڑے حجم والا، بڑی جسامت والا، موٹا، دبیز۔ "سوال یہ ہے کہ میر کے ضخیم دیوان میں آپ تلاش کیا کرتے ہیں۔" ( ١٩٨٢ء، نیم رُخ، ٦٨ )
اصل لفظ: ضخم