ضد
معنی
١ - دشمن، کینہ، مخالفت، بیر۔ آکے وعدہ پہ مرے گھر سے وہ پھر جاتے ہیں کیا ہی تقدیر کو ضد ہے مری تدبیر کے ساتھ ( ١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ١٥٥ ) ٢ - ہٹ، اصرار، اڑ، ہٹ دھرمی۔ "انہوں نے بڑے اصرار کے ساتھ مجھ سے کہا کہ ضد چھوڑ دو، اس معمولی بات پرمعاملات کو بگڑنے نہ دو۔" ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٥١٤ ) ٣ - انانیت، غصہ۔ "اور اسی کے ساتھ اس کی غصیلی اور پر ضد طبیعت کے لحاظ سے کسی واجبی سی واجبی بات کو جو اسی کی اپنی اکیلی مرضی کے برخلاف ہو آزادنہ اس کے سامنے پیش کرنے کی بہت کم جرأت کرتے ہوں۔" ( ١٩١٧ء، وقارالملک، تذکرہ وقار، ١٥٠ ) ٤ - وہ شے جو مد مقابل شے کے ساتھ جمع نہ ہو سکے، متضاد یا برعکس (چیز یا بات)۔ خدائی میں بے مثل و ضد ہے وہی ولم یولد اور لم یلد ہے وہی ( ١٨٣٤ء، مثنوی ناسخ، ٢٦ ) ٥ - [ تصوف ] ضد شئے عین شئے ہے باوجود ضدیت کے جیسے آب و آتش ہے، ان میں باہم ضدیت ہے لیکن باطن میں ایک دوسرے کا عین ہے۔ کیونکہ آپ مربوب اسم قابض ہے، پس آب محی اور آتش قابض ہے اور محی اور قابض دونوں اسماء اللہ میں سے ہیں اور اسم اللہ جامع ہے جمیع اسماء کا اور اسم اللہ میں صفت اور تاثیر محی اور قابض دونوں کی موجود ہے۔ (مصباح التعرف، 163)
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی اسم مستعمل ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - ہٹ، اصرار، اڑ، ہٹ دھرمی۔ "انہوں نے بڑے اصرار کے ساتھ مجھ سے کہا کہ ضد چھوڑ دو، اس معمولی بات پرمعاملات کو بگڑنے نہ دو۔" ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٥١٤ ) ٣ - انانیت، غصہ۔ "اور اسی کے ساتھ اس کی غصیلی اور پر ضد طبیعت کے لحاظ سے کسی واجبی سی واجبی بات کو جو اسی کی اپنی اکیلی مرضی کے برخلاف ہو آزادنہ اس کے سامنے پیش کرنے کی بہت کم جرأت کرتے ہوں۔" ( ١٩١٧ء، وقارالملک، تذکرہ وقار، ١٥٠ )