ضرور

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - وہ بات جس کا ہونا یا کرنا لازم ہو، فرض، واجب، ضروری۔ "کیا ضرور تھا کہ نواب مرزا کی خیر خواہی خورشید مرزا پر ظاہر ہو۔"      ( ١٩٢٤ء، اختری بیگم، ١١٠ ) ٢ - مطلوب، درکار۔  مرتا ہے غیر کس لیے کٹتا ہے یار کیوں حاضر ہیں جان و دل جو کسی کو ضرور ہوں      ( ١٨٤٦ء، آتش، کلیات، ١٠١ ) ١ - (تاکید کے لیے) لازمی طور پر، یقیناً۔ "ہمارے چچا رہتے تھے، ضرور آپ کے والد صاحب انہیں جانتے ہوں گے۔"      ( ١٩٧٤ء، ہمہ یاراں دوزخ، ٢٩٠ ) ٢ - [ طنزا ]  ہرگز نہیں، کی جگہ۔  ہنس کے کہنے لگی یہ وہ مفرور ایسے فقروں میں آگئی میں ضرور      ( ١٨٧١ء، شوق لکھنوی، فریب عشق، ٢٩ ) ١ - احتیاج، حاجت، ضرورت۔  کیا یہ اوس کی سخاوت نے سب کو مستغنی نہیں کسی کی کسی کو ضرورت عالم میں      ( ١٨٧٩ء، دیوانِ عیش دہلوی، ٤١ )

اشتقاق

عربی زبان میں مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں بطور صفت، متعلق فعل اور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ بات جس کا ہونا یا کرنا لازم ہو، فرض، واجب، ضروری۔ "کیا ضرور تھا کہ نواب مرزا کی خیر خواہی خورشید مرزا پر ظاہر ہو۔"      ( ١٩٢٤ء، اختری بیگم، ١١٠ ) ١ - (تاکید کے لیے) لازمی طور پر، یقیناً۔ "ہمارے چچا رہتے تھے، ضرور آپ کے والد صاحب انہیں جانتے ہوں گے۔"      ( ١٩٧٤ء، ہمہ یاراں دوزخ، ٢٩٠ )

اصل لفظ: ضرر