ضغیر
معنی
١ - چھوٹا، خُرد۔ "ان دونوں دوروں کو بالترتیب صغیریا ریوی اور کبیر یا نظامی دوران کہتے ہیں۔" ( ١٩٤٩ء، ابتدائی حیوانات، ٨٠ ) ٢ - ادنٰی، کم درجہ، حقیر۔ بڑھا کے بعد مردن کیا گھٹا یا اے فلک تحسین صغیروں کے کیا ہے زیر یا تو نے کبیروں کو ( ١٨٦١ء، کلیاتِ اختر، ٦٠١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چھوٹا، خُرد۔ "ان دونوں دوروں کو بالترتیب صغیریا ریوی اور کبیر یا نظامی دوران کہتے ہیں۔" ( ١٩٤٩ء، ابتدائی حیوانات، ٨٠ )