طائر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - اڑنے والا جانور، پرندہ چڑیا۔ "تو تعمیر شدہ انقلابی اسکول کی جھلک . چشمِ طائر کی مانند دلفریب و خوشنما ارضی نظارے دکھاتی ہے۔"      ( ١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ١٦٦ ) ٢ - [ تصوف ]  اولیا مقریبن اور ملک ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ عبارت ہے محل صور علمیہ و اعیان ثابتہ و تقدیر الٰہی .... سے۔ (مصباح التعرف) ١ - اڑنے والا۔ "شیطان کے دو لشکر ہیں ایک طائر اور ایک سائر لشکر طائر کی حرکت کا نام وسواس ہے اور سائر کی حرکت کا نام شہوت۔"      ( ١٨٦٥ء، مذاق العارفین، ٩٧:٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اڑنے والا جانور، پرندہ چڑیا۔ "تو تعمیر شدہ انقلابی اسکول کی جھلک . چشمِ طائر کی مانند دلفریب و خوشنما ارضی نظارے دکھاتی ہے۔"      ( ١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ١٦٦ ) ١ - اڑنے والا۔ "شیطان کے دو لشکر ہیں ایک طائر اور ایک سائر لشکر طائر کی حرکت کا نام وسواس ہے اور سائر کی حرکت کا نام شہوت۔"      ( ١٨٦٥ء، مذاق العارفین، ٩٧:٤ )

اصل لفظ: طیر
جنس: مذکر