طالب
معنی
١ - طلب کرنے والا، مانگنے والا، خواہش کرنے والا، آرزومند، خواستگار، مشتاق۔ رحم کر رحم کر اے خدا رحم کرے طالب رحم ہیں بے نوا رحم کر ( ١٩٨٤ء، الحمد، ٦٨ ) ٢ - تلاش کرنے والا، جویا، ڈھونڈنے والا۔ تیرا طالب ہوں میں مطلوب ہے تو میرے محبوب کا محبوب ہے تو ( ١٨٧٤ء، گلزار خلیل، ٥١ ) ٤ - مرید، شاگردِ معنوی، طالب۔ "سوال طلب یا مرید کی طرف سے ہے اور جواب مرشد کی طرف سے ہے۔" ( ١٩٨٨ء، اردونامہ، لاہور، جون، ١٤ ) ٥ - فقیر، درویش(شاذ) "طالب سے مراد، درویش ہے۔" ( ١٨٨١ء، کشاف اسرارالمشائخ (ترجمہ)، ٣٥٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں بھی صفت مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٤ - مرید، شاگردِ معنوی، طالب۔ "سوال طلب یا مرید کی طرف سے ہے اور جواب مرشد کی طرف سے ہے۔" ( ١٩٨٨ء، اردونامہ، لاہور، جون، ١٤ ) ٥ - فقیر، درویش(شاذ) "طالب سے مراد، درویش ہے۔" ( ١٨٨١ء، کشاف اسرارالمشائخ (ترجمہ)، ٣٥٢ )