طالع
معنی
١ - طلوع ہونے والا، نکلنے والا (سورج کی طرح)، اٹھنے یا ابھرنے والا۔ کیا فیض سواری تھا کہ زر ریز تھی سب راہ طالع تھا ادھر مہر ادھر تھا علم شاہ ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ١٥٥:١ ) ١ - قسمت، بخت، نصیبہ، مقدر، تقدیر۔ قسمت جنہیں اب تک درِ دولت پہ نہ لائی ممکن ہے کہ طالع نے نہیں کی ہو رسائی۔ ( ١٩٨١ء، شہادت، ١٩٨ ) ٢ - [ نجوم ] وہ برج، ستارہ یا درجہ جو پیدائش کے وقت یا (نجومی کے) کسی سوال کے استفسار کے وقت مشرق سے نمودار ہوتا ہو؛ (کنایۃً) قسمت، تقدیر۔ "خسرو انسان کی بلندی اور رفعتِ طالع پر مکمل اعتماد رکھتے تھے۔" ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطٰی کی ایک جھلک، ١٧٠ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت اور اسم مستعمل ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ نجوم ] وہ برج، ستارہ یا درجہ جو پیدائش کے وقت یا (نجومی کے) کسی سوال کے استفسار کے وقت مشرق سے نمودار ہوتا ہو؛ (کنایۃً) قسمت، تقدیر۔ "خسرو انسان کی بلندی اور رفعتِ طالع پر مکمل اعتماد رکھتے تھے۔" ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطٰی کی ایک جھلک، ١٧٠ )