طبع
معنی
١ - فطرت، جبلت، سرشت، خمیر، مزاج۔ "مقتضائے طبع یہی ہے کہ لکھنے والا پہلے اپنا نام لکھے۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١٦٣:٣ ) ٢ - عادت، خصلت، نوعیت، تخیل، فکر (مصنف کا)۔ "ان کی موانست سے طبع چابکدست چوکڑیاں بھرنے لگتی تھی۔" ( ١٩٤٠ء، انشائے داغ، ١٠١ ) ١ - (چھاپا خانے میں) چھاپنے کا کام، چھاپنا یا چھینا نیز چھپی ہوئی چیز کا ایڈیشن۔ "انہوں نے تجویز پیش کی کہ ان فارموں کو اردو میں طبع کرایا جائے۔" ( ١٩٨٨ء، اردو نامہ، لاہور، جون، ٣١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی اسم مستعمل ہے۔ ١٦٧٢ء کو "کلیات شاہی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - فطرت، جبلت، سرشت، خمیر، مزاج۔ "مقتضائے طبع یہی ہے کہ لکھنے والا پہلے اپنا نام لکھے۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١٦٣:٣ ) ٢ - عادت، خصلت، نوعیت، تخیل، فکر (مصنف کا)۔ "ان کی موانست سے طبع چابکدست چوکڑیاں بھرنے لگتی تھی۔" ( ١٩٤٠ء، انشائے داغ، ١٠١ ) ١ - (چھاپا خانے میں) چھاپنے کا کام، چھاپنا یا چھینا نیز چھپی ہوئی چیز کا ایڈیشن۔ "انہوں نے تجویز پیش کی کہ ان فارموں کو اردو میں طبع کرایا جائے۔" ( ١٩٨٨ء، اردو نامہ، لاہور، جون، ٣١ )