طبقاتی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - طبع کا، طبیعیت کا۔ "ان کی ہر بات طبعاتی مطالعہ اور نفسیات زندگی کا کیفیات لیے ہوئے ہے۔"      ( ١٩٨٣ء، حصارانا، ٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طبع' کی جمع 'طبعات' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'طبقاتی' بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ صفت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٣ء کو "حصارانا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طبع کا، طبیعیت کا۔ "ان کی ہر بات طبعاتی مطالعہ اور نفسیات زندگی کا کیفیات لیے ہوئے ہے۔"      ( ١٩٨٣ء، حصارانا، ٩ )

اصل لفظ: طبع