طبل

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بڑا ڈھول، چھوٹا دھونسا، دمامہ، نقارہ۔ "بنکاپور میں حسب مراتب ڈیرے اور شامیانے لگائے گئے، شاہی طبل و کوس کا عملہ بھی ساتھ آیا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، اردو، کراچی، ١٢٩:٢ ) ٢ - [ تشریح ]  کان کا پردہ یا جھلی، طبلۂ گوش۔ "مطرقہ کا سر . غشا کے لیول سے اوپرطبل کے عِلّیہ میں واقع ہوتا ہے۔"      ( ١٩٣٧ء، جراحی اطلاقی تشریح، ١٠٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی اسم ہی مستعمل ہے۔ ١٥٠٣ء کو "نوسرہار (اردو ادب)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بڑا ڈھول، چھوٹا دھونسا، دمامہ، نقارہ۔ "بنکاپور میں حسب مراتب ڈیرے اور شامیانے لگائے گئے، شاہی طبل و کوس کا عملہ بھی ساتھ آیا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، اردو، کراچی، ١٢٩:٢ ) ٢ - [ تشریح ]  کان کا پردہ یا جھلی، طبلۂ گوش۔ "مطرقہ کا سر . غشا کے لیول سے اوپرطبل کے عِلّیہ میں واقع ہوتا ہے۔"      ( ١٩٣٧ء، جراحی اطلاقی تشریح، ١٠٣ )

اصل لفظ: طبل
جنس: مذکر