طبیعت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - فطرت، جبلت، سرشت، خمیر، خلقی خاصیت۔ "جو کچھ بھی دیکھنے میں آتا ہے جس کا نام ہم مخلوقات یا طبیعت رکھتے ہیں وہ سرے ہی سے موجود نہ تھا اور نہ اب موجود ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، خدا و آئین خدا، ١١ ) ٢ - عادت، خصلت، سیرت۔ "مولوی سعید طبیعت کے مولوی ہی تھے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٦٢٨ ) ٣ - ذہن، سمجھ، تخیل، فکر۔ "اگرچہ یہ شعر عاشقانہ ہے مگر سجدہ کے لفظ نے عارفانہ بھی اس کو بنا دیا اور طبیعت کو دوسری طرف دوڑا دیا۔"      ( ١٩٢٧ء، شاد عظیم آبادی، فکر بلیغ، ٨٣ ) ٤ - [ مجازا ]  مزاج، دل و دماغ، نفس و روح کی مجموعی کیفیت (جو فطرت نہ ہو)۔ "انسان کی طبیعت اور ارادہ کو اس کے عمل سے ملا کر دیکھا جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٣٦ ) ٥ - [ مجازا ]  جسمانی نظام (صحت و مرض کے اعتبار سے)، قوت، جسمانی۔ "نہانے دھونے کے بعد طبیعت بحال ہوئی۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٦ ) ٦ - [ مجازا ]  دل، جی، نیت۔  شبوں کو نیند آتی ہی نہیں ہے طبیعت چین پاتی ہی نہیں ہے      ( ١٩٧٨ء، ابن انشا، دل وحشی، ٤٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی اسم مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فطرت، جبلت، سرشت، خمیر، خلقی خاصیت۔ "جو کچھ بھی دیکھنے میں آتا ہے جس کا نام ہم مخلوقات یا طبیعت رکھتے ہیں وہ سرے ہی سے موجود نہ تھا اور نہ اب موجود ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، خدا و آئین خدا، ١١ ) ٢ - عادت، خصلت، سیرت۔ "مولوی سعید طبیعت کے مولوی ہی تھے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٦٢٨ ) ٣ - ذہن، سمجھ، تخیل، فکر۔ "اگرچہ یہ شعر عاشقانہ ہے مگر سجدہ کے لفظ نے عارفانہ بھی اس کو بنا دیا اور طبیعت کو دوسری طرف دوڑا دیا۔"      ( ١٩٢٧ء، شاد عظیم آبادی، فکر بلیغ، ٨٣ ) ٤ - [ مجازا ]  مزاج، دل و دماغ، نفس و روح کی مجموعی کیفیت (جو فطرت نہ ہو)۔ "انسان کی طبیعت اور ارادہ کو اس کے عمل سے ملا کر دیکھا جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٣٦ ) ٥ - [ مجازا ]  جسمانی نظام (صحت و مرض کے اعتبار سے)، قوت، جسمانی۔ "نہانے دھونے کے بعد طبیعت بحال ہوئی۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٦ )

اصل لفظ: طبع
جنس: مؤنث