طراوت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - (نباتات کی) تروتازگی، شادابی، سرسبزی۔  ہوا جو تیری بہاروں پہ شعر لے لے کر طراوت چمن و خوبی ہوا آیا      ( ١٩٧١ء، لا حاصل، ٩٣ ) ٢ - ٹھنڈک، خنکی۔ "آبشار ہو، سمندر ہو، دریا ہو، تو میرے دل کو سکون ہو جاتا ہے اور آنکھوں میں طراوت آجاتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، دریا کے سنگ، ٨٣ ) ٣ - تری، نمی، رطوبت۔ "جیسے وہ کچی مٹی سے ابھی ابھی ڈھالی گئی ہو وہی گدراہٹ وہی جاذبیت وہی طراوت۔"      ( ١٩٨٥ء، منٹو نوری نہ ناری، ٧١ ) ٤ - [ مجازا ]  بہار، رونق، آب داری، خوبی، شگفتگی۔  لطافت سے ہیں خالی تیرے کملائے ہوئے بوسے طراوت سے ہیں خالی تیرے مرجھائے ہوئے بوسے      ( ١٩٤١ء، صبح بہار، ١٢١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی اسم مستعمل ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ٹھنڈک، خنکی۔ "آبشار ہو، سمندر ہو، دریا ہو، تو میرے دل کو سکون ہو جاتا ہے اور آنکھوں میں طراوت آجاتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، دریا کے سنگ، ٨٣ ) ٣ - تری، نمی، رطوبت۔ "جیسے وہ کچی مٹی سے ابھی ابھی ڈھالی گئی ہو وہی گدراہٹ وہی جاذبیت وہی طراوت۔"      ( ١٩٨٥ء، منٹو نوری نہ ناری، ٧١ )

اصل لفظ: طرا
جنس: مؤنث