طشتری
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - رکابی، تشتری۔ "گوہر جان کی مجالس محرم کے حصے چاندی کی طشتریوں سمیت تقسیم کیے جاتے تھے۔" ( ١٩٨٧ء، گردش رنگ چمن، ٢٦٨ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم 'تشت' کا معرب 'طشت' کے ساتھ 'ری' بطور لاحقۂ تصغیر لگانے سے 'طشتری' بنا۔ اردو میں عربی سے مشتق ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٤٥ء کو "حکایت سخن سنج" میں مستعمل ہے۔
مثالیں
١ - رکابی، تشتری۔ "گوہر جان کی مجالس محرم کے حصے چاندی کی طشتریوں سمیت تقسیم کیے جاتے تھے۔" ( ١٩٨٧ء، گردش رنگ چمن، ٢٦٨ )
اصل لفظ: طَشْت
جنس: مؤنث