طلاق

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - [ فقہ ] دو عادلوں کے حضور مجلس واحد میں اپنی منکوحہ کو قید نکاح سے آزاد کرنا، قید نکاح سے آزادی و رستگاری۔ "اس منشور پر عمل در آمد کیا گیا تو ہندو عورتوں کو بھی مسلمان خواتین کی طرح طلاق آسانی سے حاصل ہو جائے گی۔"    ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٣٠١ ) ٢ - دست برداری، ترک۔ "صوفی وہ ہے کہ تین طلاق سے موصوف ہوئے۔"    ( ١٨٤٩ء، دستورالعمل انگریزی، ٢٨ ) ٣ - کسی چیز کو چھوڑنے کا عہد، شرط۔ "ہمارے بزرگوں نے طلاق لکھ دی ہے کہ جب تک چتور گڑھ کو فتح نہ کرلیں تب تک بروز شادی سیدھی چار پائی پر نہ سوئیں۔"    ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزادی، ٥٦٧:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٣ء کو "گنج خوبی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ فقہ ] دو عادلوں کے حضور مجلس واحد میں اپنی منکوحہ کو قید نکاح سے آزاد کرنا، قید نکاح سے آزادی و رستگاری۔ "اس منشور پر عمل در آمد کیا گیا تو ہندو عورتوں کو بھی مسلمان خواتین کی طرح طلاق آسانی سے حاصل ہو جائے گی۔"    ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٣٠١ ) ٢ - دست برداری، ترک۔ "صوفی وہ ہے کہ تین طلاق سے موصوف ہوئے۔"    ( ١٨٤٩ء، دستورالعمل انگریزی، ٢٨ ) ٣ - کسی چیز کو چھوڑنے کا عہد، شرط۔ "ہمارے بزرگوں نے طلاق لکھ دی ہے کہ جب تک چتور گڑھ کو فتح نہ کرلیں تب تک بروز شادی سیدھی چار پائی پر نہ سوئیں۔"    ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزادی، ٥٦٧:٣ )

اصل لفظ: طلق
جنس: مؤنث