طلاقن

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ عورت جس کو طلاق ہو گئی ہو، مطلقہ؛ (طنزاً) منحوس عورت۔ "کنواری لڑکی، بیاہی عورت، بہو، ساس، سوتیلی ماں، بیوہ، طلاقن غرض کون سی عورت ہے جس کو صحیح راہ نہ دکھائی ہو۔"      ( ١٩٤٥ء، راشدالخیری، ٨٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طلاق' کے ساتھ 'ن' بطور لاحقۂ تانیث لگانے سے 'طلاقن' بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٣ء کو "بنات النعش" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ عورت جس کو طلاق ہو گئی ہو، مطلقہ؛ (طنزاً) منحوس عورت۔ "کنواری لڑکی، بیاہی عورت، بہو، ساس، سوتیلی ماں، بیوہ، طلاقن غرض کون سی عورت ہے جس کو صحیح راہ نہ دکھائی ہو۔"      ( ١٩٤٥ء، راشدالخیری، ٨٧ )

جنس: مؤنث