طلب

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - جستجو، تلاش، کھوج۔  رہوں گا ڈھونڈ کر نقشِ کف پا طلب کہتی ہے وہ کعبہ یہیں ہے    ( ١٩٨٥ء، رخت سفر، ٢٠ ) ٢ - [ تصوف ] حق کے طلب کرنے کو کہتے ہیں۔ (مصباح التعرف، 166) ٣ - مقصد؛ خواہش؛ آرزو، چاہت، شدید خواہش۔ "سگریٹ بیڑی کی طلب ہوئی۔"      ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٧ ) ٤ - مانگ، مطالبہ، فرمائش، ضرورت۔ "وسائل کے وظائف بہت سے دوسرے پیچیدہ عوامل سے مشروط ہوتے ہیں مثلاً طلب، علم تکنیک، سرمایہ . وغیرہ۔"      ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٤٧ ) ٥ - بلاوا، طلبی۔  جبریل براق لا کے بولے یا ختم رُسلۖ چلو طلب ہے      ( ١٨٧٢ء، محامد خاتم النبین، ١٧٠ ) ٦ - تنخواہ۔ "دو مہینے کی پیشگی طلب ملی۔"      ( ١٩١٠ء، سپاہی سے صوبیدار، ٦٩ ) ٨ - مرکبات میں بطور جزو دوم مستعمل اور چاہنے اور تلاش کرنے والا کے معنی دیتا ہے، جیسے : آرام طلب، حق طلب۔  کس قدر آپ سے ہوں لذتِ گفتار طلب سینکڑوں لفظ مجھے یاد ہیں تکرار طلب      ( ١٩٥٨ء، حیدر دہلوی، صبح الہام، ٧١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء کو"قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - مقصد؛ خواہش؛ آرزو، چاہت، شدید خواہش۔ "سگریٹ بیڑی کی طلب ہوئی۔"      ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٧ ) ٤ - مانگ، مطالبہ، فرمائش، ضرورت۔ "وسائل کے وظائف بہت سے دوسرے پیچیدہ عوامل سے مشروط ہوتے ہیں مثلاً طلب، علم تکنیک، سرمایہ . وغیرہ۔"      ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٤٧ ) ٦ - تنخواہ۔ "دو مہینے کی پیشگی طلب ملی۔"      ( ١٩١٠ء، سپاہی سے صوبیدار، ٦٩ )

اصل لفظ: طلب