طلبہ

قسم کلام: اسم جمع

معنی

١ - طالب علم، شاگرد (جو درس گاہوں میں تعلیم پاتے ہیں)۔ "عربی کا ایک اور لفظ ہے 'طلیب' اس کی جمع 'طلبا' آتی ہے، مگر شاگردوں کے معنوں میں 'طلبہ' ہے۔"      ( ١٩٧٤ء، اردو املا، ٦٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٢٣ء کو "سیرۃ النبیۖ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طالب علم، شاگرد (جو درس گاہوں میں تعلیم پاتے ہیں)۔ "عربی کا ایک اور لفظ ہے 'طلیب' اس کی جمع 'طلبا' آتی ہے، مگر شاگردوں کے معنوں میں 'طلبہ' ہے۔"      ( ١٩٧٤ء، اردو املا، ٦٨ )

اصل لفظ: طلب
جنس: مذکر