طلوع

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - روشن ہونا، ظاہر ہونا، بلند ہونا، نکلنا آسمان سے (عموماً چاند اور سورج، صبح وغیر کا)۔ "سورج . کہیں نہ کہیں ہمیشہ طلوع ہوتا رہتا ہے۔"    ( ١٩٨٨ء، ایک محبت سو ڈرامے، ١٤٣ ) ٢ - اٹھنا، چڑھنا (جوانی کا جوش یا نشہ وغیرہ) "جب نشے کے طلوع کا وقت ہوا تو پاؤں ڈگمانے لگے۔"    ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٥١:١ ) ٣ - آغاز، ابتدا، شروع کرنا۔ "لینن کی عہد ساز ہستی نے اس خیال کو غلط ثابت کر کے اشتراکیت کا طلوع روس کی سرزمین سے کر دکھایا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٣٣٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روشن ہونا، ظاہر ہونا، بلند ہونا، نکلنا آسمان سے (عموماً چاند اور سورج، صبح وغیر کا)۔ "سورج . کہیں نہ کہیں ہمیشہ طلوع ہوتا رہتا ہے۔"    ( ١٩٨٨ء، ایک محبت سو ڈرامے، ١٤٣ ) ٢ - اٹھنا، چڑھنا (جوانی کا جوش یا نشہ وغیرہ) "جب نشے کے طلوع کا وقت ہوا تو پاؤں ڈگمانے لگے۔"    ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٥١:١ ) ٣ - آغاز، ابتدا، شروع کرنا۔ "لینن کی عہد ساز ہستی نے اس خیال کو غلط ثابت کر کے اشتراکیت کا طلوع روس کی سرزمین سے کر دکھایا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٣٣٦ )

اصل لفظ: طلع
جنس: مذکر