طلیق

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ہنس مکھ، تیز زبان، فصیح۔  فصیحانِ عربی کے ہوش اوڑائے جس نے وہ خطبہ طلیقانِ عجم کی بند کر دی جس نے گویائی      ( ١٩٣٥ء، عزیز لکھنوی، صحیفہ ولا، ٨٨ ) ٢ - آزاد، حر۔ "اول غلام اور پھر ایک طلیق کی حیثیت سے ٩٤ تک اپائرس کے شہر نکو پولس میں جہاں بالآخر اس نے سکونت اختیار کرلی تھی۔"      ( ١٩٥٩ء، مقدمہ تاریخ سائنس، ١، ٥٦١:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣٥ء کو "صحیفہ ولا" کے حوالے سے عزیز لکھنوی کے ہاں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - آزاد، حر۔ "اول غلام اور پھر ایک طلیق کی حیثیت سے ٩٤ تک اپائرس کے شہر نکو پولس میں جہاں بالآخر اس نے سکونت اختیار کرلی تھی۔"      ( ١٩٥٩ء، مقدمہ تاریخ سائنس، ١، ٥٦١:٢ )

اصل لفظ: طلق