طمانچہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - وہ ضرب جو ہاتھ پھیلا کر کسی کے گال پر ماری جائے، تھپڑ، لپڑ۔ "منہ چھاتی اور کمر کی مناسبت سے طمانچہ، گھونسا اور لات استعمال کئے ہیں۔"    ( ١٩٧٩ء، اثبات و نفی، ٧٢ ) ٢ - [ حرب و ضرب ] ہتھیار کی چوٹ جو داہنی طرف سے حریف کے کلے پر ماری جائے۔ "سلام ایک انگ کا یہ ہے کہ دوبارہ ٹھاٹھ پر قائم ہو کر دونوں شخص یکے بعد دیگرے طمانچہ اور سر کی چوٹ ماریں اور اپنے اپنے گدکوں پر روک کر سلام ختم کریں۔"    ( ١٩٣٩ء، بانک بنوٹ، دلاور جنگ، ٢٢ ) ٤ - ہوا کا تھپیڑا۔  کون غافل کو جگا سکتا ہے کسی طوفان کے طمانچے بھی نہیں      ( ١٩٥٨ء، فکر جمیل، ١١٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠١ء کو "باغ اردو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ ضرب جو ہاتھ پھیلا کر کسی کے گال پر ماری جائے، تھپڑ، لپڑ۔ "منہ چھاتی اور کمر کی مناسبت سے طمانچہ، گھونسا اور لات استعمال کئے ہیں۔"    ( ١٩٧٩ء، اثبات و نفی، ٧٢ ) ٢ - [ حرب و ضرب ] ہتھیار کی چوٹ جو داہنی طرف سے حریف کے کلے پر ماری جائے۔ "سلام ایک انگ کا یہ ہے کہ دوبارہ ٹھاٹھ پر قائم ہو کر دونوں شخص یکے بعد دیگرے طمانچہ اور سر کی چوٹ ماریں اور اپنے اپنے گدکوں پر روک کر سلام ختم کریں۔"    ( ١٩٣٩ء، بانک بنوٹ، دلاور جنگ، ٢٢ )

جنس: مذکر