طمانیت
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - اطمینان، تسلی، دلجمعی، سکون خاطر۔ "ان کی صحبت میں مجھے طمانیت محسوس ہونے لگی۔" ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٢١١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طمانیہ' کی تارید ہے۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٦ء کو "خطوط غالب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اطمینان، تسلی، دلجمعی، سکون خاطر۔ "ان کی صحبت میں مجھے طمانیت محسوس ہونے لگی۔" ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٢١١ )
اصل لفظ: اِطْمِینان
جنس: مؤنث